سوال
"کیا الزہیمر کے مریض کی اپنی دولت سے قربانی اور صدقہ دینا جائز ہے، اور کیا اس کے مال میں تصرف کرنا جائز ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر الزائمر کا مریض اپنے عقل سے محروم ہے تو اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، نہ تو اس کی طرف سے قربانی کی جائے گی اور نہ ہی صدقہ دیا جائے گا، اور اگر اس کی عقل موجود ہے لیکن کبھی کبھی وہ اسے کھو دیتا ہے تو وہ ذمہ دار رہے گا، اس پر قربانی واجب ہے اور اس کی طرف سے قربانی کی جائے گی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔