نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
"ایک بیوہ عورت ہے جس کے چھوٹے بیٹے اور بیٹی ہیں، لوگ اس کے بچوں کے لیے پیسے دیتے ہیں، کیا وہ ان پیسوں میں سے لے کر اپنے لیے کپڑے یا دوسری چیزیں خرید سکتی ہے؟ کیا اس طرح وہ یتیم کے مال کی آلہ بن جاتی ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ظاہری طور پر یہ ہے کہ مال اسے اور اس کے بچوں کو ان کی ضروریات کے لیے دیا جاتا ہے، لہذا اس سے اس کے لیے فائدہ اٹھانا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔