نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
انٹرنیٹ پر دو گھنٹے تفریح کے لئے کھیلنے کا کیا حکم ہے، کیا یہ ہر قسم کی تفریح میں شامل ہے جو حرام ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: انٹرنیٹ پر تمام کھیل شرعاً ممنوع ہیں؛ کیونکہ یہ حرام لہو و لعب میں شامل ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔