اگر روزہ دار کو رمضان میں کھانے پینے پر مجبور کیا گیا اور اس نے کھا پی لیا، پھر جان بوجھ کر کھانے پینے اور جماع کا ارتکاب کیا

سوال
اگر روزہ دار کو رمضان میں کھانے پینے پر مجبور کیا گیا اور اس نے کھا پی لیا، پھر جان بوجھ کر کھانے پینے اور جماع کا ارتکاب کیا تو کیا حکم ہے؟
جواب
فعليه القضاء ولا كفارة؛ لأن صومه فسد قبل أن يتعمد لشيء من ذلك، كما في ضابط المفطرات ص132-133.
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں