نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا حکم ہے اگر شوہر اپنی بیٹی کا نصرانی نام رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ماں نہیں چاہتی، یہ جانتے ہوئے کہ یہ نام اس کی ماں کا ہے، اور جب بچی پیدا ہوئی تو اس کا نام اس کی ماں کے نام پر رکھا گیا، اور ماں اسے دوسرے نام سے پکارتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: شوہر کے لیے یہ ناپسندیدہ ہے کہ وہ کوئی عجیب یا اسلام کی روایات کے مطابق نام نہ رکھے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔