نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
«زبدة الكلام» ص (١٩٢) میں ضرب شدہ جگہ کی پاکیزگی کی شرط کے بارے میں: اگر کسی جگہ پر نجاست تھی اور اس کا اثر زائل ہو گیا ہے تو وہاں تیمم کرنا جائز نہیں ہے، حالانکہ وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: تیمم میں طہارت کی شرط رکھی گئی ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں "فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا" النساء ٤٣ میں طیب کا مفہوم ہے، یعنی تیمم کے لیے جگہ پاک ہونی چاہیے، اس لیے ایسی جگہ پر تیمم کرنا جائز نہیں ہے جہاں نجاست ہو، اگرچہ اس کا اثر بغیر دھونے کے ختم ہو گیا ہو، جبکہ نماز اس جگہ پر اس کے اثر کے ختم ہونے کے بعد جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔