نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا جعلی کرنسی کی تجارت جائز ہے، اور اگر یہ حرام ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جعلی کرنسی کی تجارت جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں دوسروں کے ساتھ دھوکہ اور خیانت ہے اور ان کے حقوق کھانا ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ اس جعلسازی کی وجہ سے دوسروں سے لی گئی تمام حقوق واپس کرے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.