نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
جنبی یا غیر وضو والے کے لیے قرآن کی غیب میں تلاوت کا کیا حکم ہے، اور قرآن مجید کو بغیر کسی عازل یا فائل کے چھونے کا کیا حکم ہے، یا مثلاً بغیر وضو کے قرآن مجید کو کتاب کے ساتھ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جنبی حالت میں قرآن کی غیب سے تلاوت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ جنابت اس میں حائل ہے، جبکہ غیر وضو والے کے لیے جائز ہے اور مسح قرآن کے لیے وضو شرط ہے، سوائے اس صورت کے جب قرآن کے پاس ایک علیحدہ غلاف ہو، تو اس میں فاصلہ ہونے کی وجہ سے جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.