سوال
ایک عورت کی عادت ہمیشہ سے ایسی ہے پچھلے ۱۵ سالوں سے، اور اس کی عادت اس سے پہلے غیر منظم تھی؟ یعنی پچھلے ۱۵ سالوں سے اس کی ماہواری ۱۴ دن آتی ہے جو پہلے اور آخر میں ہلکی ہوتی ہے، اور درمیانی پانچ دنوں میں شدید ہوتی ہے؟ وہ پوچھتی ہے کہ کب استحاضہ شمار ہو گا، اور کب حیض شمار ہو گا؟ اور کیا اس پر نماز اور روزے قضا ہیں؟ وہ کہتی ہے کہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ ۱۴ دن حیض ہے شافعیوں کی فتویٰ کی بنیاد پر، اور ان کے ہاں حیض ۱۵ دن ہے، اب وہ پریشان ہے کہ وہ حیض کیسے شمار کرے، کیا وہ جو کچھ چھوٹ گیا ہے اس کی قضا کرے یا شافعیوں کی فتویٰ پر قائم رہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ توفیق دے: اگر شافعی علماء کا فتویٰ آپ کے لئے مناسب ہے، تو آپ کو اس پر عمل کرنا چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.