نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔

ربوی بینک میں جاری بیلنس

سوال
کیا کسی شخص کا ربوی بینک میں جاری بیلنس ہونا جائز ہے (بغیر اس کے کہ بیلنس میں سود شامل ہو)؟ حالانکہ علاقے میں کوئی اسلامی بینک موجود نہیں ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: کسی ربوی بینک میں کھاتہ کھولنا جائز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اسلامی بینک کی عدم موجودگی میں کوئی ضرورت ہو۔ اگر اس کے ربوی بینک میں کھاتے سے فوائد حاصل ہوں تو اسے صدقہ دینا چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں