نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا ایک فرد اس بینک کی شاخ میں کام کر سکتا ہے جو گاہکوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس طرح کا کام عموماً بینک اور سودی قرضوں کی تشہیر کا حصہ ہوتا ہے، لہذا یہ جائز نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔