نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
جب شوہر نے کہا: «تم طلاق ہو» ایک مسئلے کے دوران، اور جب شوہر سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اس کی نیت اپنی بیوی کو خاموش کرنا تھی نہ کہ طلاق دینا؟ اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ایسی نیت کو طلاق نہ ہونے میں شمار نہیں کیا جاتا، اور اگر آدمی اپنی معمول کی حرکتوں جیسے کہ مار پیٹ، گالی دینا اور توڑ پھوڑ سے باہر نکل جائے تو طلاق نہ بھی ہو سکتی ہے، اور اسے اپنی حالت کی تصدیق کے لیے فتویٰ سے رجوع کرنا چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔