نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا حکم ہے کہ بعض کتب خانوں اور افراد کی طرف سے طلبہ کی طرف سے تحقیق کرنے کا کام پیسے کے عوض کیا جائے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ عمل حرام ہے، اور اس کا کمانا خبیث ہے، اور اس کے کرنے والے پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے؛ کیونکہ اس میں دھوکہ اور خیانت ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.