سوال
میں ایک تجارتی مرکز گیا اور وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ ہر ایک دس دینار ادا کرے، اس کے بعد ان لوگوں کے ناموں کا قرعہ نکالا گیا جنہوں نے پیسے دیے، اور مجھے عمرہ کا انعام ملا، کیا یہ عمرہ حرام ہے کیونکہ یہ حرام مال سے ہے؟ کیا یہ جوا کی طرح ہے؟ کیا مجھے عمرہ کرنا چاہیے یا نہیں کیونکہ یہ مشتبہ طریقے سے حاصل ہوا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ہاں یہ جوا کی صورت ہے، اور یہ حرام ہے، لہذا عمرہ کے اخراجات حرام اور ناپاک مال سے ہوں گے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔