نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
احناف کے نزدیک قے کے وضو کو توڑنے کا کیا ثبوت ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ١-ثوبان کی حدیث: «کہ رسول اللہ نے قے کی تو وضو کیا»، اسے احمد اور ترمذی نے ابو درداء سے روایت کیا۔ ٢-ابن ماجہ نے اسماعیل بن عیاش کے ذریعے ابن جریج سے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی کہ نبی نے فرمایا: «جس پر قے، ناک سے خون بہنے، قلس یا پیشاب کی کچھ مقدار آ جائے تو اسے واپس جانا چاہیے، وضو کرنا چاہیے، پھر اپنی نماز پر قائم رہنا چاہیے اور اس دوران بات نہیں کرنی چاہیے۔»