نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک تہائی حصہ اپنی بیٹیوں کے پوتوں کو وصیت کرے، جبکہ اس کے پاس صرف بیٹیاں ہی ہیں اور بیٹیاں زندہ ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر بیٹیوں کی زندگی کی وجہ سے انہیں وراثت نہیں ملی تو ان کے لیے وصیت درست ہے، لیکن اگر بیٹیاں باپ سے پہلے فوت ہو جائیں تو ان کے لیے وصیت باطل ہو جائے گی؛ کیونکہ وہ وراثت میں شامل ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔