نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
ایک شخص نے وتر کی دو رکعتیں مؤخر کیں اور انہیں پڑھنا بھول گیا، اس پر کیا اثر مرتب ہوگا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: وتر کی نماز تین رکعتیں ہیں، درمیان میں تشہد ہے، اور تین رکعتوں کے بعد ایک سلام ہے، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک وتر واجب ہے، اور اگر کوئی شخص صبح کی نماز پڑھے اور اسے یاد ہو کہ اس نے وتر نہیں پڑھی تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔