نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
اس پانی کے استعمال کا کیا حکم ہے جس میں دودھ ملا ہوا ہے؟
جواب
میں اللہ کی توفیق سے کہتا ہوں: دودھ میں دو صفات ہیں: رنگ اور ذائقہ، اور اس کی کوئی خوشبو نہیں ہوتی۔ اگر پانی میں ان میں سے کوئی ایک صفت ظاہر ہو جائے، تو وہ پاک تو ہوتا ہے لیکن حدث کو پاک کرنے والا نہیں ہوتا، لہذا اس سے حقیقی نجاست کو دور کرنا جائز ہے، لیکن اس سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں۔ دیکھیں: اللباب، 1/18-19، والهدية العلائية، ص39-40، واللہ اعلم۔